ٹیکنولوجی اور انسان کا ساتھ دنیا کی ابتدءسے ہے، یہ الگ بات ہے کہ ابتداءاور آج کی ٹیکنولوجی میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ انسان نے درخت و دیگر اشیاءکو کاٹنے کے لئے کلہاڑی اور ایسے دیگر اوزار تیار کئے جو کہ انسان کی بنائی ہوئی ابتدائی ٹیکنولوجی تھی۔ آج دنیا جدید سے جدید تر ہوتی چلی جارہی ہے، سائنس اینڈ ٹیکنولوجی نے نہایت تیزی سے ترقی کی ہے اور نئی نئی چیزیں انسان کو مہیا کر دیں ہیں۔ انسان کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے ذریعے گھر میں بیٹھے بیٹھے ہزاروں سہولیات استعمال کر رہا ہے جبکہ دیگرخود ساختہ مشینوں کی بدولت کام منٹوں میں اور صرف ایک اشارے سے ہو جاتے ہیں۔ آج کے دور میںتیزی سے مقبول ہونے والی ٹیکنولوجی نینو ٹیکنولوجی ہے۔ نینو سے مراد ایسی اشیاءہیں جو ایک سوئی کی نوک سے تقریباً ایک ملین گنا چھوٹی ہوتی ہیں۔ نینو ٹیکنولوجی مادہ کی نینو اسکیل پر جوڑ توڑ کوکہتے ہیں۔ گزشتہ چند سال سے نینو ٹیکنولوجی نے جس رفتار سے ترقی کی ہے اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ نینو ٹیکنولوجی مستقبل میں کیا روپ دھارے گی۔

Read the rest of this entry »

آج کی جدید دور میںانٹرنیٹ دنیا بھر کے انسان کی ضرورت بن چکا ہے۔ اگر ہماری زندگی سے انٹرنیٹ کو نکال دیا جائے تو متعدد ضروریات زندگی خصوصاً روابط قائم رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ انسان انٹرنیٹ کی دی ہوئے آسانیوں کا عادی ہو چکا ہے اوراب وہ ان کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اس بات کو اگر یوں کہا جائے کہ انٹرنیٹ انسانی زندگی کا اہم حصہ بن چکا ہے تو یہ غلط نہ ہوگا۔

ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً تین ارب سے زائد لوگ انٹرنیٹ سے جڑے ہوئے ہیں، صرف پاکستان کی بات کی جائے تو تقریباً دو کروڑ چار لاکھ اکتیس ہزارسے زائد لوگ انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہیں۔ پاکستان ایشیائی ممالک میں انٹرنیٹ استعمال کرنے کے حوالے سے آٹھویں نمبر پر آچکا ہے۔ اب تک پاکستان کے ایک ہزار آٹھ سو بارہ شہر انٹرنیٹ سے منسلک ہو چکے ہیں اور ان میں روزانہ اضافہ ہو رہا ہے۔ ایشیائی ممالک میں انٹرنیٹ کے حوالے سے چین، بھارت اور جاپان بالترتیب پہلے دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دور حاضر میں انٹرنیٹ سروسز فراہم کرنے والی کمپنیز کے درمیان ایک جنگ کا سماںپیدا ہو گیا ہے اور یہ کمپنیز بہتر سے بہترین سروسز فراہم کرنے کی کوششوں میں لگی ہوئی ہیں۔

Read the rest of this entry »

پاکستان خدا کے فصل و کرم سے ایسے خطے میں واقع ہے جہاں بے شمار قدرتی ذ خائر پنہاں ہیں ۔ان قدرتی ذخائر کا استعمال کرتے ہوئے نہ صرف ملکی قرضے بلکہ حالیہ توانائی کے بحران کو بھی دور کیا جا سکتا ہے۔ بعض اوقات ہم جس چیز کی تلاش کر رہے ہوتے ہیں، وہ ہمارے پاس ہی موجود ہوتی ہے، بس اس چیز پر غور نہیں کیا جاتا۔ ہمارے ملک کے حکمران توانائی کے بحران کو دور کرنے کے لئے متعدد ممالک سے رجوع کر رہے ہیں، رینٹل پاور پلانٹ اور دیگر بین الاقوامی منصوبوں پر غور کر رہے ہیں جبکہ پاکستان کے اس توانائی کے بحران کو صوبہ سندھ میں واقع تھرکول ذخائر سے باآسانی پورا کیا جاسکتا ہے۔

Read the rest of this entry »

زبان کسی بھی قوم کے لئے نہایت اہمیت کی حامل ہے۔یہ ناصرف جذبات کے اظہار و خیال کا ذریعہ ہے بلکہ اقوام کی شناخت بھی زبان سے ہی ہوتی ہے۔ پاکستان، ہندوستان، امریکہ، افریکہ، چین، روس، فرانس، جرمنی، ایران، اٹلی و دیگر ممالک کی اقوام کی اپنی علیحدہ زبانیں ہیں، جو کہ اقوام کے افراد کی نشاندہی کرتی ہیں۔ اسی طرح ہر ملک کی ایک قومی زبان ہوتی ہے جس سے ہر ملک کے افراد کی نشاندہی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر پاکستان کی قومی زبان اردو جبکہ ہندوستان کی قومی زبان ہندی ہے۔ ان دونوں ممالک کے افراد اپنی زبانوں سے پہچانے جاتے ہیں جبکہ دونوں ممالک کی قومی زبان کے علاوہ کچھ اور زبانیں بھی ہیں جیسے پاکستان میں بولی جانے والی زبانوں میں سندھی، بلوچی، پنابی، پشتو و دیگر اور ہندوستان میں بولی جانے والی زبانوں میںتامل، تیلوگ،کنادا، ملایالم، سنسکرت ودیگر۔

Read the rest of this entry »

جنیاتی طریقے (جینیٹک انجینئرنگ) کے ذریعے تیار کی جانے والی فصلوں کو جی ایم فصلیں کہا جاتا ہے۔ ان فصلوں کی تیاری کے لئے عام سطح پر مطلوبہ جین ایک جاندار سے دوسرے جاندار میں منتقل کردیا جاتا ہے۔ مطلوبہ جین منتقل کرنے کے دو طریقے ہیں۔ پہلے طریقے میں جین گن (آلہ) استعمال کیا جاتا ہے۔ ایک پودے سے ڈی این اے اپنی تعداد بڑھا لیتا ہے، اس طرح جین منتقل ہو جاتا ہے۔ دوسرے طریقہ میں ایک بیکٹیریم استعمال کیا جاتا ہے جس کی مدد سے پودے میں مطلوبہ جین داخل کر دیا جاتا ہے اور وہ جنیاتی تبدیل شدہ پودا بن جاتا ہے۔
دنیا کے متعدد ممالک نے جی ایم فصلوں کو اپنایا مگر کہیں اس کے نتائج حوصلہ افزاءاور کہیں نقصان دہ برآمد ہوئے۔ 2004ء میں آسٹریلیا، ارجنٹائن، برازیل، بلغاریہ، کینیڈا، چائنہ، کولمبیا، جرمنی، انڈیا، انڈونیشیا، میکسیکو، فلپائن، رومانیہ، انگلینڈ، ساﺅتھ افریقہ، امریکہ، ہنگری، آسٹریا اور یوراگوئے نے بی ٹی فصلوں کو اپنایا مگر آج ان میں سے دیگر بائیو ٹیکنولوجی کے استعمال کو ترک کر چکے ہیں۔ انگلینڈ، فرانس، جرمنی، آسٹریلیا، ہنگری اور بلغاریا جیسے ممالک بی ٹی فصلوں کے استعمال کو ترک کر چکے ہیں۔

Read the rest of this entry »

دنیا بھر میںآلودگی کے باعث انسانی اموات کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔ انسان خود ہی اپنے ماحول کو آلودہ کر کے مرنے کا بندوبست کر رہا ہے، سب کچھ جانتے ہوئے بھی احتیاط نہیں کرتا۔ درختوں کی کٹائی، کوڑے کا ڈھیر، فیکٹریز، گاڑیوں و بسوں کا دھواں، سمندروں نہروں اور ندی نالوں میں فیکٹریز کے گندے پانی کا بہاﺅ یہ سب انسان خود ہی کر رہا ہے۔درختوں کا کٹاﺅ کر کے انسان خود آکسیجن کی کمی کر رہا ہے۔ دنیا میں روزانہ کروڑوں کی تعداد میں درختوں کا صفایا کر دیا جاتا ہے۔ آخر کیوں ہم آلودگی پھیلا رہے ہیں کیا ہمیں اپنی زندگی پیاری نہیں؟

آلودگی دنیا میں رہنے والی اقوام کے لئے سب سے بڑا مسئلہ ہے آلودہ ماحول انسان کی زندگی کے لئے خطرہ ہے، اس سے نجات انتہائی ضروری ہے۔ انسان آلودہ ماحول میں سانس لے کر اپنے جسم میں بیماریوں کو دعوت دیتا ہے۔دنیا میں ماحولیاتی آلودگی میں انتہائی اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس پر قابو پانا نہ صرف انسان بلکہ زمینی و آبی جانوروں کی زندگیوں کے لئے بھی ضروری ہے۔ Read the rest of this entry »

انٹرنیٹ نے انسان کے لئے روابط سمیت متعدد معاملات کو آسان بنا دیا ہے، یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں انٹرنیٹ کا استعمال وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ کاروباری و عام افراد کے لئے رقوم کی منتقلی و ادائیگی ایک بہت بڑا مسئلہ تھی، لوگوں کو بینکس کے چکر کاٹنے پڑتے تھے مگر اب انٹرنیٹ کی بدولت یہ تمام مسائل حل گئے ہیں۔ آن لائن بینکنگ کے ذریعے لوگ اپنے بنک اکاﺅنٹ کو خود اپنی مرضی سے استعمال کر سکتے ہیں۔ جیسے جب چاہیں انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہوئے رقم منتقلی، اکاﺅنٹ بیلنس چیکنگ، بینک اسٹیٹمنٹ، چیک کی تفصیلات، پہلے کی کی گئی ٹرانزیکشن، لون اسٹیٹمنٹ، رقم کی ادائیگی، رقم کی منتقلی اور بل پیمنٹ پروسیسنگ وغیرہ کی جاسکتی ہیں۔

Read the rest of this entry »